Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do Lyrics - 21 Ramzan Noha 2020 | Syed Raza Abbas Zaidi

Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do Lyrics - 21 Ramzan Noha 2020 |  Syed Raza Abbas Zaidi 


ھائے حیدرؑ کے جنازے پہ عجب منظر تھا بیٹیاں قدموں سے لپٹی تھیں بصد آہ و بقا بڑھ کے شبرؑ نے جو چہرے سے کفن بند کیا دیکھکر بھائی کے چہرے کو یہ زینبؑ نے کہا رخ سے اک بار کفن اور ھٹادو بھیا میرے بابا کا مجھے چہرا دکھادو بھیا 1.آج بابا جو میرے گھر سے چلے جائینگے پھر مجھے شامِ غریباں میں نظر آنئیگے اتنے دن کیسے گزارونگی بتادو بھیا 2.جیسے اماں کی ردا میں تھی شفا نانا کی کیا یہ ممکن ھے کے اُٹھ جائیں میرےبابا بھی میری چادر میرے بابا کو اُڑھا دو بھیا 3.خون بابا کی جبیں سے وہ گرا تھا جس پے اپنے بابا کی نشانی میں بنالونگی اُسے میرے بابا کا مصلٰی مجھے لادو بھیا



Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do




4.کیسے بتلاؤں یہ دل غم سے پھٹا جاتا ھے کیا جدا باپ سے ھوکر بھی جیا جاتا ھے اپنی بہنوں کو فقط اتنا بتادو بھیا 5.ھائے شبیرؑ سے زینبؑ نے کہا رو روکر سُونا لگتا ھے عمامے کے بنا بابا کا سر سر پہ بابا کے عمامہ تو سجادو بھی 6.آرھی ھونگی بقیعہ سے صدا سن کے میری سر پہ بابا کے نا پڑجائے نظر اماں کی زخم اماں کی نگاھوں سے چھپادو بھیا 7.غم میں بابا کے تڑپتا ھے زرا دیکھو تو دور بیٹھا ھے بُلا لاؤ میرے غازیؑ کو پاس کچھ دیر تو بابا کے بٹھادو 8.گھر سے جاتا تھا جنازہ جو علیؑ کا باھر بیٹیاں کہتی تھیں زیشان و رضا رو روکر آخری بار تو بابا سے ملادو بھیا

Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do


Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do Lyrics - 21 Ramzan Noha 2020 |  Syed Raza Abbas Zaidi
Rukh Se Ek Bar Kafan Aur Hata Do Lyrics - 21 Ramzan Noha 2020 |  Syed Raza Abbas Zaidi 
Previous
Next Post »